رائے پور، 05 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دو دن کے چھتیس گڑھ اور تلنگانہ بند کی اپیل پرنکسلیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ بند کے پہلے دن تلنگانہ میں حالات معمول رہے لیکن چھتیس گڑھ کے بستر میں نکسلیوں نے جم کرہنگامہ مچایا۔ دنتے واڑہ سے وشاکھا پٹنم کی جانب جانے والی ریلوے ٹریک پر نکسلیوں نے توڑ پھوڑ کی، فش پلیٹ نکالے جانے اور ریل کی پٹریوں کو اکھاڑ دینے سے ایک مال گاڑی کے دو انجن اور سات ڈبے پٹری سے اتر گئے۔بیجا پور کے بھٹی گوڑا میں نکسلیوں نے 10 گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا،واقعہ کوتقریباََ 70 نکسلیوں نے انجام دیاہے۔ مودکپال کے تھانہ انچارج وریندر سنگھ کے مطابق یہ تمام گاڑیاں پردھان متری گرام سڑک یوجنا (PMGSY) کی منصوبہ بندی کے تحت سڑکوں پر تعمیر میں لگے تھے۔بیجاپور کے بھٹی گوڑا علاقے میں نکسلیوں نے ایک مسافر بس کوبھی آگ کے حوالے کردیا۔ اس بس میں شادی کی تقریب میں شامل ہونے کے لئے باراتی بیٹھے تھے، نکسلیوں نے باراتیوں کی ایک نہ سنی اور بس کے ٹرنک میں رکھے سامان سمیت باراتیوں کے سامان کو بھی پھونک ڈالا۔ اسی علاقے کے قریب ایک علاقہ میں ماؤنواز نے سیتارام باکڑے نامی ایک اسسٹنٹ گارڈ کو ہلاک کردیا،اس پر ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔ریاستی وزیراعلیٰ رمن سنگھ نے کہا ہے کہ نکسلیوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، اس لئے وہ مسافر بسوں، اسکولوں، بازاروں اور دیہی بازاروں اورگھرجاکر قتل کو انجام دے رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی کسان۔ مزدور پالیسیوں کی مخالفت کے سبب نکسلیوں نے چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں دو دنوں کا بند بلایا ہے۔ اپنے پرچوں میں نکسلیوں نے کہا ہے کہ چھتیس گڑھ حکومت قبائلیوں کی زمین صنعتی گھرانوں کو دینے کے لئے زمین آمدنی قانون میں ترمیم کر رہی ہے۔